Skip to content

Ostrich Farming Detail

  • Ostrich Farming - The Largest Living Species of Bird In the World

    Ostrich is a large flightless hardy bird of African origin. It belongs to running bird family. It has long neck and small head, with large eyes and short broad beak. It spreads small wings while running. The long powerful legs are used for defense. The feet have only two toes. It can survive in temperatures ranging from 2 degrees to 50 degrees Celsius. It can be reared on barren land and mainly consumes Lucerne and water. Male ostriches are black, with white wings and tail. The female is dull grayish brown. The females lay their yellowish white eggs together in a single large depression in the sand. The eggs weigh 1-2 kg. The male sits on them at night and the female incubates them by day. The ostrich has been farmed for around 150 years in South Africa, first for its feathers and recently for the hide and now for meat also. Ostrich farming is now an international industry, with South Africa still by far the major player. Today, ostrich farms are considered to be among the most profitable agricultural projects. They are often referred to as "the farms of the future" because of the large variety of possible products and their expected high profit potential. Ostriches are raised commercially for their meat, hide and feathers. Currently commercial farming is going on in about 100 countries in all continents and regions. Some countries where this is done with official backing are: Saudi Arabia, China, Turkey, Iran, Egypt, Jordan, Israel, and many African countries. Pakistan is one of the most suitable places to undertake commercial farming. It has cheap labor, a suitable climate, inexpensive fodder, low business cost and a population of businessman/farmers/investors who are willing to enter into this new venture. The sector has seen very rapid growth and bird population is growing day by day.

    A documentary regarding Ostrich Farming can be viewed using the Link on Livestock Punjab Youtube Channel.

    شتر مرغبانی

    شتر مرغ افریقی نسل کا قررتی لا پرواز پرندہ ہے۔ اس کا تعلق دوڑنے والے پرندوں سے ہے۔ یہ بڑی آنکھوں اور مختصر وسیع چوںچ کے ساتھ لمبی گردن اور چھوٹے سر والا پرندہ ہے۔ دوڑتے وقت یہ اپنے چھوٹے پروں کو پھیلا لیتا ہے۔ یہ پرندہ اپنی طویل طاقتور ٹانگوں کواپنے دفاع کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اس کے پنجوں میں دو انگلیاں ہوتی ہیں۔ یہ پرندہ 2 ڈگری سے 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک کے درجہ حرارت میں زندہ رہ سکتا ہے۔ اس کو بنجر زمین پر بھی پالا جا سکتا ہے اور یہ زیادہ تر لوسرن کھاتااور پانی پیتا ہے۔ نر شتر مرغ کے جسم کے بال کالے ہوتے ہیں اور دم اور بازو کے پروں کے کنارے سفید ہوتے ہیں۔ مادہ شتر مرغ سست اوربھورے رنگ کی ہوتی ہیں۔ مادائیں شتر مرغ ریت میں زرد سفید انڈے دیتی ہیں۔ ان کے انڈوں کا وزن ایک سے دو کلو ہوتا ہے۔ نر شتر مرغ رات کے وقت اورمادائیں دن کے وقت انڈوں پر بیٹھتی ہیں۔  جنوبی افریقہ میں تقریباً 150 سال سے شتر مرغ بانی ہو رہی ہےجو کہ سب سے پہلے اس کے  پنکھوں کے لئے اور آج کل اسکی کھال اور گوشت کے لئے شترکی جارہی ہے۔ شوترمرغ بانی اب ایک بین الاقوامی صنعت بن چکی ہے لیکن جنوبی افریقہ اسکی صنعت میں سرفہرست ہے۔ شترمرغ بانی کوذراعت کے سب سے زیادہ منافع بخش منصوبوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ ان سے حاصل ہونی والی تمام ممکنہ مصنوعات اور بہت زیادہ منافع کیوجہ سےان کی فارمنگ کو ًفام آف دی فیوچرًسمجھا جا رہا ہے۔شتر مرغ کو کمرشلی طور پرگوشت،کھال اور پروں کے لئے پالا جاتا ہے۔ آج کل اس کی کمرشل فارمنگ تمام براعظموں کے تقریباً 100 ممالک میں کی جا رہی ہے۔ بعض ممالک میں اسکی فارمنگ کو سرکاری طور پر کی جارہی ہے جن میں سعودی عرب، چین، ترکی، ایران، مصر، اردن، اسرائیل، اور بہت سے افریقی ممالک شامل ہیں۔ پاکستان شتر مرغ کی کمرشل فارمنگ شروع کرنے کے لئے سب سے زیادہ مناسب جگہوں میں سے ایک ہے۔ اس کی کمرشل فارمنگ کی وجہ سستی لیبر، مناسب آب و ہوا، سستی خوراک، کم کاروبار کی لاگت ہے اور تاجر / کسان بڑی تعداد میں شتر مرغ کی کمرشل فارمنگ کرنے کوتیارہیں۔ یہ سیکٹر بہت تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور شترمرغ کی پیداوارمیں روز بروز اصافہ ہو رہاہے.                                                                                                              ۔                                                                                                                                                          

                                                        ۔

Ostrich Farming Gallery