Skip to content

Consumer Rights Detail

  • Consumer Rights

    The World Consumer Rights’ Day was observed internationally on March 15, 2017. As a token observance, the Helpline Trust made a single-handed bid to remind the government and the people of Pakistan about the importance of consumer rights.

    The day has been observed the world over since 1983 with the idea of making consumers — which in effect means everyone who buys goods or services — aware of their rights so that they can demand protection for them.

    The eight rights that are generally considered to be fundamental to ensure that a consumer is not cheated or harmed are the right to safety, right to be informed, right to choose, right to be heard, right to the satisfaction of basic needs, right to redress, right to consumer education and the right to a healthy environment. To provide redress, a government that is mindful of consumers’ rights sets up consumer courts to adjudicate on matters where a consumer has been wronged.

    While a consumer protection law was adopted by the National Assembly in 1995 and Punjab has passed a legislation on consumer protection, the consumer courts that are essential to give teeth to the law, have not been set up so far. The other provinces have no legislation or mechanism of the kind. Sindh had promulgated an ordinance in August 2004 but it was not brought before the provincial assembly and has since lapsed.

    Consumer protection can operate only in a competitive market where there are a number of sellers and a number of buyers. This multiplicity exerts checks and balances on all transactions and thus enables the consumers to protect their interests. In this environment one presupposes that the consumer is aware of his rights and strives to protect them. It is also important that there is a mechanism to provide redress. This cannot be isolated from the judicial system in vogue and the culture of respect for human rights. Moreover, the consumer must also have a choice in the goods and services he uses.

    صارفین کے حقوق

    دنیا میں ہر سال 15 مارچ کو صارفین کے حقوق کا عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ایک ہیپ لائن ٹرست حکومت اور پاکستان کے لوگوں کو صارفین میں صارفین کے حقوق کی اہمیت کو اجاگر  کرنے کا واحد ذریعہ ہے.                                                                                                                 ۔

    1983 کے بعد سے دنیا بھر میں مشاہدہ کیا گیا کہ صارفین کے حقوق کے دن کو دنیا بھر میں منایا جانا چاہیے ۔۔۔۔۔ اس کا مطلب ہے جس سے وہ گڈز اور سروسز کو خریدتا ہے ۔۔۔۔ صارفین کو ان کے حقوق سے آگاہ کیا جائے تاکہ وہ ان کے لئے تحفظ کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔

    صارفین کو دھوکہ دیا یا نقصان سے بچانے کیلئے آٹھ حقوق عموماً بنیادی تصورکیا جاتا ہے۔ ان آٹھ حقوق میں حفاظت کرنے کا حق، صحیح معلومات، انتخاب کا حق، صحیح سننا، بنیادی ضروریات کے اطمینان کے حقوق، ازالے کا حق، صارفین کی تعلیم کا حق اور ایک صحت مند ماحول کے حقوق شامل ہیں۔ ازالے کی فراہمی کے لئے ایک حکومت کوصارفین کی ضروریات سے آگاہ ہوتے ہوئےعدالتیں قائم کر دی ہیں تاکہ صارفین کو ظلم سے نجات مل سکے.                                                                                 ۔

    کنزیومر پروٹیکشن قانون 1995 میں قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں پاس کیا گیا جس کے تحت اس بات پر زور دیا گیا کہ صارفین کو حقوق فراہم کرنے کیلئے عدالتیں قائم کی جانی چاہیے جو کہ اب تک نہیں ہو سکی۔ دیگر صوبوں کی اس بارے میں کسی قسم کی کوئی قانون سازی نہیں کی گئی۔ سندھ اسمبلی میں اگست 2014 میں اس قانون کو پاس کیا گیا جبکہ اس قانون کو اسمبلی کے سامنے نہیں تھا لایا گیا.     ۔

    کنزیومر پروٹیکشن صرف  مسابقتی مارکیٹ میں کام کر سکتی ہے جہاں خرید و فروخت کرنے والوں کی بڑی تعداد موجود ہوتی ہے۔ یہ ایک کثیر تعداد میں ہونی والی خریدوفروخت کو چیک کرتی ہے جو کہ ان کے مفادات کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے صارفین کے قابل بناتا ہے۔ آج کے دور میں یہ پیشگوئی کی گئی ہے کہ صارف اپنے حقوق سے مکمل آگاہ ہے اور انکے تحفظ کیلئے کوشاں ہے۔ اس کے حقوق کے ازالے کے لئے ایک منظم طریقہ کا ہونا بھی بہت ضروری ہے۔ اس کے علاوہ، صارفین جو بھی اشیاء اور خدمات استعمال کرتا ہے ان کے صحیح انتخاب کے بارے میں جاننا بہت ضروری ہے

Consumer Rights Gallery